اسلامی قانونِ وراثت (علم الفرائض)

اسلامی قانونِ وراثت (علم الفرائض) قرآن مجید (خاص طور پر سورۃ النساء کی آیات 11، 12 اور 176) اور احادیثِ مبارکہ پر مبنی ہے۔ اسلام میں وراثت کی تقسیم کا ایک انتہائی جامع اور واضح نظام موجود ہے، جس میں ہر رشتے دار کا حصہ اس کی قربت اور حالات کے مطابق مقرر کیا گیا ہے۔
 عملی طور پر وراثت کے کسی خاص کیس میں حصہ نکالنے کے لیے تمام موجود ورثاء کی مکمل فہرست سامنے رکھ کر کُل ترکہ (میت کی تدفین کا خرچ،میت کے ذمے قرض اور وصیت نکالنے کے بعد) کو تقسیم کیا جاتا ہے۔ رشتوں کے لحاظ سے وراثت کے بنیادی اصول  اورحصص کی تفصیل درج ذیل ہے:

(1) بنیادی ورثاء (جو کبھی وراثت سے محروم نہیں ہوتے)
والد (Father):والد کو تین مختلف حالتوں میں حصہ ملتا ہے:چھٹا حصہ (1/6): اگر مرنے والے کا بیٹا یا پوتا موجود ہو۔
چھٹا حصہ + عصبہ (بقیہ مال): اگر مرنے والے کی صرف بیٹیاں یا پوتیاں ہوں (پہلے مقررہ حصہ 1/6 ملے گا، پھر باقی ورثاء کو دینے کے بعد جو بچے گا وہ بھی والد کو ملے گا)۔
عصبہ (بقیہ تمام مال):اگر مرنے والے کی کوئی اولاد (نہ بیٹا، نہ بیٹی) نہ ہو۔

والدہ (Mother):والدہ کو درج ذیل حالتوں میں حصہ ملتا ہے:چھٹا حصہ (1/6): اگر مرنے والے کی کوئی بھی اولاد موجود ہو، یا مرنے والے کے دو یا دو سے زیادہ بہن/بھائی موجود ہوں۔ایک تہائی (1/3): اگر مرنے والے کی نہ کوئی اولاد ہو اور نہ ہی دو یا اس سے زیادہ بہن/بھائی ہوں۔
بقیہ کا ایک تہائی:اگر ورثاء میں صرف شوہر/بیوی اور والدین ہوں، تو شریک حیات کو اس کا حصہ دینے کے بعد جو بچے گا، اس کا 1/3 والدہ کو ملے گا۔

شوہر (Husband):نصف (1/2): اگر بیوی کی کوئی اولاد (بیٹا، بیٹی، پوتا، پوتی) نہ ہو۔چوتھائی (1/4): اگر بیوی کی کوئی اولاد موجود ہو۔

بیوی (Wife): چوتھائی (1/4): اگر شوہر کی کوئی اولاد نہ ہو۔آٹھواں حصہ (1/8): اگر شوہر کی کوئی اولاد موجود ہو۔ (ایک سے زائد بیویاں ہونے کی صورت میں یہی حصہ ان کے درمیان برابر تقسیم ہوگا)۔

بیٹا (Son): بیٹا ہمیشہ عصبہ ہوتا ہے۔ یعنی دوسرے مقررہ حصے داروں کو ان کا حصہ دینے کے بعد جو کچھ بچتا ہے، وہ سب بیٹے کو ملتا ہے۔أَلْحِقُوا الفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا، فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ (صحيح البخاري وصحيح مسلم)بیٹیوں کے ساتھ: اگر بیٹیاں بھی ہوں تو "مرد کے لیے دو عورتوں کے برابر حصہ" کے اصول (2:1 کے تناسب) کے تحت تقسیم ہوگا۔

بیٹی (Daughter) : نصف (1/2): اگر بیٹی اکیلی ہو اور کوئی بیٹا نہ ہو۔دو تہائی (2/3): اگر دو یا اس سے زیادہ بیٹیاں ہوں اور بیٹا نہ ہو (یہ 2/3 ان میں برابر تقسیم ہوگا)۔
عصبہ بالغیر:اگر بیٹی کے ساتھ بیٹا بھی ہو، تو وہ بیٹے کی وجہ سے عصبہ بن جاتی ہے اور مقررہ حصے کے بجائے بیٹے کے ساتھ (2:1 کے تناسب سے) حصہ پاتی ہے۔

 (2)  ثانوی ورثاء (پوتے، پوتیاں)
پوتا (Grandson - بیٹے کا بیٹا): 
محروم:  اگر مرنے والے کا اپنا بیٹا موجود ہو تو پوتا محروم ہو جاتا ہے۔ اگر بیٹا نہ ہو تو پوتا بالکل بیٹے کے قائم مقام ہوتا ہے اور عصبہ کے طور پر حصہ پاتا ہے۔
پوتی (Granddaughter - بیٹے کی بیٹی):محروم: اگر مرنے والے کا بیٹا موجود ہو، یا دو یا دو سے زائد بیٹیاں موجود ہوں۔چھٹا حصہ (1/6): اگر مرنے والے کی صرف ایک بیٹی ہو (تاکہ بیٹیوں کا 2/3 حصہ مکمل ہو جائے)۔بیٹی کے قائم مقام:** اگر مرنے والے کی اپنی کوئی اولاد (بیٹا یا بیٹی) نہ ہو، تو پوتی کو بیٹی کی طرح حصہ ملتا ہے (اکیلی کو 1/2، دو یا زائد کو 2/3)۔عصبہ بالغیر: اگر پوتے کے ساتھ ہو تو اس کے ساتھ مل کر عصبہ بن جاتی ہے (2:1 کا تناسب)۔

 (3) بہن بھائی (Siblings)

سگے بھائی (Full Brother):محروم:والد، بیٹا یا پوتا ہونے کی صورت میں سگے بھائی کو کچھ نہیں ملتا۔
عصبہ: اگر مذکورہ افراد نہ ہوں، تو سگا بھائی عصبہ بن کر بقیہ تمام مال پاتا ہے۔
سگی بہن (Full Sister):
محروم: والد، بیٹا یا پوتا ہونے کی صورت میں محروم۔
نصف (1/2): اگر اکیلی ہو (اور کوئی بھائی، اولاد یا والد نہ ہو)۔دو تہائی (2/3): اگر دو یا زائد ہوں۔
عصبہ بالغیر: سگے بھائی کے ساتھ ہو تو اس کے ساتھ عصبہ بن جاتی ہے (2:1 کا تناسب)۔ اسی طرح اگر مرنے والے کی بیٹیاں موجود ہوں تو بیٹیوں کا حصہ دینے کے بعد بقیہ مال سگی بہن کو ملتا ہے۔

علاتی بھائی (Paternal Half-Brother - باپ شریک بھائی):
محروم: والد، بیٹا، پوتا، سگا بھائی، یا (ایسی سگی بہن جو بیٹیوں کے ساتھ عصبہ بن گئی ہو) کی موجودگی میں محروم ہو جاتا ہے۔
عصبہ: اگر یہ سب موجود نہ ہوں تو عصبہ بن کر بقیہ مال پاتا ہے۔

علاتی بہن (Paternal Half-Sister - باپ شریک بہن):
محروم: والد، بیٹا، پوتا، سگا بھائی یا دو سگی بہنوں کی موجودگی میں محروم ہو جاتی ہے۔
چھٹا حصہ (1/6): اگر ایک سگی بہن موجود ہو (تاکہ بہنوں کا 2/3 مکمل ہو)۔نصف یا دو تہائی (1/2 یا 2/3): اگر سگے بہن بھائی نہ ہوں تو سگی بہن کے قائم مقام ہوتی ہے۔
عصبہ:علاتی بھائی کے ساتھ 2:1 کے تناسب سے حصہ پاتی ہے۔

اخیافی بھائی اور اخیافی بہن (Uterine Brother/Sister - ماں شریک بہن بھائی):
ان کے احکام دیگر بہن بھائیوں سے مختلف ہیں:
محروم: مرنے والے کا والد، دادا، بیٹا، بیٹی، پوتا یا پوتی موجود ہو تو یہ مکمل محروم ہو جاتے ہیں۔
چھٹا حصہ (1/6) اگر صرف ایک اخیافی بھائی یا ایک اخیافی بہن ہو۔ایک تہائی (1/3) اگر دو یا اس سے زیادہ ہوں۔
اہم اصول: اخیافی بہن بھائیوں میں مرد اور عورت کا حصہ **برابر** ہوتا ہے۔ یعنی ان کے درمیان 2:1 کا تناسب نہیں ہوتا، بلکہ 1/3 حصہ تمام بہن بھائیوں میں برابری کی بنیاد پر تقسیم ہوتا ہے۔